اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے امریکہ کہ مختلف علاقوں میں قرآن سوزی کے شرمناک اقدام پر شدیداللحن بیان جاری کرکے اس اقدام اور اس کے تمامتر نتائج کی ذمہ داری امریکی انتظامیہ پر عائد کی ہے۔
پیغام کا متن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون
دنیا نے دیکھ لیا کہ کئی مہینوں تک شور مچانے اور متنازعہ بیانات دینے اور عالمی تنبیہات کو نظر انداز کرنے کے بعد اسلام دشمن شیاطین نے عظیم اور شرمناک گناہ کا ارتکاب کیا اور کتاب خدا کی توہین کرکے پروردگار عالم اور انبیاء الہی کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک کے سینکڑوں مفکرین پر مشتمل عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی، ـ جو دنیا کے مختلف ممالک میں کروڑوں دینداروں کی فکری، علمی اور ثقافتی مرجعیت کی حامل ہے ـ بین الاقوامی تنظیم کی حیثیت سے دنیا والوں کی توجہ ذیل کے نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے:
1۔ قرآن کریم ـ دنیا کے تمام انصاف پسند دانشوروں کے اعتراف کے مطابق ـ ایسی کتاب ہے جو لوگوں کو ایمان، تقوی، پرہیزگاری، عبادت، اخوت، امن و صلح، مکالمے اور گفتگو، حُسنِِ اخلاق، غرباء، ییتموں اور محروموں کی حمایت، علم و دانش کے فروغ، ترقی و پیشرفت اور برائیوں و بدعنوانیوں کے خلاف جدوجہد کی دعوت دیتی ہے اور یہ سب تمام الہی ادیان کے مشترکہ احکام ہیں؛ چنانچہ جن لوگوں نے قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب کیا ہے وہ در حقیقت تمام انبیاء اور تمام آسمانی ادیان و مذاہب کی مخالفت اور تمام خداپرستوں کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ 2۔ اگرچہ ممکن ہے کہ یہ اقدامات بعض جاہلوں اور انتہاپسندوں نے انجام دیئے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان اقدام کے پس پردہ دنیا کو کھاجانے کی آرزو رکھنے والی طاقتوں اور ان کے صہیونی ایجنٹوں کے منصوبے کارفرما ہیں چنانچہ دنیا کے مسلم عوام امریکی صدر کے بظاہر حق پرستانہ موقف یا امریکی وزیر خارجہ کے بظاہر جمہوریت پسندانہ نعروں سے دھوکہ کھانے والے نہیں ہیں جو قرآن سوزی کے ہولناک سانحے سے ایک روز قبل تک باور کرانے کی کوشش کر رہے تھے کہ گویا وہ قرآن سوزی کے منصوبے کے مخالف ہیں؛ یہ کیسی بات ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی انتظامیہ جو عالمی گاؤں (گلوبل ولیج) کی نمبرداری کی دعویدار بھی ہے اور دنیا میں نئے نظام کے نفاذ کے بہانے دنیا کے مختلف علاقوں پر فوجی چرھائی بھی کرتی ہے؛ لیکن وہ مٹھی بھر انتہاپسند جنونیوں کو لگام نہیں دے سکتی کہ وہ حتی کہ واشنگٹن میں وھائٹ ہاؤس کے سامنے (!) دنیا کے اربوں مسلمانوں کی توہین نہ کریں؟! کیا دنیا باور کرسکتی ہے کہ یہ حکومت اور اس کے گرجے کے سربراہان میں اتنی بھی سکت نہیں ہے کہ ان افراد کو قابو کرسکیں جو ان کے اپنے اقرار کے مطابق بے قدر و قیمت اور دیوانے ہیں؟!
3۔ مسلم علماء، مسلمان تنظیمیں، اسلامی ممالک کے سربراہان و دیگر حکام اور تمام تر مسلمانوں نے 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد واضح طور پر اعلان کیا کہ اسلام اور قرآن دہشت گردی کے خلاف ہیں اور جن لوگوں نے اس سانحے کے اسباب فراہم کئے ہیں، وہ ہم میں سے نہیں ہیں لیکن اس سانحے کے اصل بانی و مرتکب، چیختی چلاتی قوتوں نے مسلمانوں کی صدا دنیا والوں کی سماعت تک نہیں پہنچنے دی تاہم اس کے باوجود چونکہ خداوند متعال خود ہی اپنا نور مکمل کرنے والا ہے (واللہ مُتِمُّ نُورِہ) چنانچہ اس روز کے بعد قرآن مجید کا نور زیادہ سے تابندہ تر ہوگیا اور اس نے حقیقت کے حقیقی متلاشیوں کے دلوں میں ہدایت کی کرنیں روشن کردیں؛ چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن کے علی رغم اس زمانے سے مغرب میں اسلام کا فروغ ماضی کی نسبت کئی گنا وسیع رہا ہے۔ 4۔ جس طرح کہ اسلام کی عظمت کو 11 ستمبر 2001 کی سازش کے بعد چار چاند لگ گئے اور اس تابندہ سورج کی تعلیمات کی کرنیں 11 ستمبر 2010 کی سازش کے بعد ہر روز زیادہ سے اس سورج کی تبدہ کرنیں زیادہ سے زیادہ جانوں کو منور کریں گی؛ کیونکہ خداوند متعال نے خود ہی اپنے نورانی کلمات کی حفاظت کی ضمانت فراہم فرمائی ہے۔ 5۔ ہماری رائے میں کسی بھی دین، ثقافت اور سنت الہی کی توہین نا معقول، جاہلانہ اور متعصبانہ اقدام ہے اور بلا شک و شبہ اس سازش کا مجرم نمبر ایک امریکی انتظامیہ ہے اور اس سلسلے میں اس کو دنیا کے مسلمانوں کا جواب دینا ہوگا؛ اس کے بعد جاہلوں، سفیہوں، احمقوں اور کینہ پرور متعصبین کی باری آتی ہے جو کٹھ پتلیوں کی اس افسوسناک نمائش کا کردار بن گئے۔ بے شک یہ ناقابِلِ مُعافی جُرَم نہایت بھاری بھرکم رد عمل کا باعث بنے گا لہذا عالم اسلام میں قابض امریکی فورسز اور امریکہ کے قومی مفادات کے خلاف ہر قسم کے تشدد آمیز اقدامات کی براہ راست ذمہ داری امریکی حکام پر عائد ہوگی جنہوں نے اس سانحے کی روک تھام کے حوالے سے دنیا والوں کی نصیحتوں اور خیرخواہانہ مشوروں کو نظر انداز کیا چنانچہ دانشمندانہ اقدام یہی ہوگا کہ کسی بھی قسم کے خطرناک نتائج برآمد ہونے سے قبل ہی اس بھونڈے جرم کے مرتکبین کو عدل و انصاف کے حوالے کرے تا کہ انہیں اپنے ننگین اقدام کی قرار واقعی سزا مل سکے۔
6۔ دنیا کے مسلمان بھی اپنے لئے یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ اس ناقابل معافی جرم کے مرتکبین کو اہلیت رکھنے والی عدالتوں کے حوالے کردیں اور ان کافروں، مرتدوں اور انسانی و اسلامی اقدار کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچادیں۔ مسلم حکومتوں کو بھی قانوی چارہ جوئی کرکے اس توہین و گستاخی کا مقابلہ کرنا چاہئے تا کہ اس کے بعد کوئی بھی اس قسم کی گستاخی کی جرأت نہ کرسکے اور ادیان الہی کے پیروکاروں کے درمیان اختلاف کے فاصلوں میں مزید اضافہ نہ کیا جاسکے۔7۔ بین الاقوامی فورم ـ جیسے "اقوام متحدہ، انسانی حقوق کمیشن، یونسکو، ویٹیکن، اسلامی کانفرنس تنظیم نیز عیسائیت کے مختلف فرقوں کے علماء اس عمل کی اعلانیہ مذمت کرین اور اس عمل کے مرتکبین اور اس کے پس پردہ افراد یا قوتوں کو عالمی برادری سے نکال باہر کریں۔ 8۔ عیسائی برادریاں اور فورم کو اس جرم کے مرتکب پادری نما اشخاص کے گرجے کو ہمیشہ کے لئے بند کردیں؛ کیونکہ اس قسم کے مراکز جھوٹے گرجا گھر ہیں جہاں اللہ کی بجائے شیطان کی پرستش ہوتی ہے؛ مسیحی علماء اور عمائدین توجہ رکھین کہ کہیں اس قسم کے افراد اس آسمانی دین سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور دنیا کے لوگوں کو مسیحیت کی تعلیمات اور اس کے پیروکاروں کے حوالے سے بدگمانی سے دوچار نہ کردیں۔ 9۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ایک بار پھر اس اہم حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ جو چیز مسلمانوں کو نرم اور سخت جنگ (Soft and Hard War) کے مقابلے میں محفوظ رکھتی ہے وہ اسلامی حکومتوں اور اقوام کی ہمہ جہت وحدت اور یکجہتی ہے۔ صرف اسی صورت میں ہی عالمی مستکبرین کے پاس حق و فضیلت کے سامنے پسپائی اور گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ 10۔ آخر میں امت اسلامی کے پیکر پر لگنے والے اس گہرے گھاؤ پر صاحب الزمان بقیة اللہ الاعظم ـ ارواحنا لہ الفداء ـ کو، جو عصر حاضر میں قرین قرآن ہیں، تسلیت و تعزیت عرض کرتے ہوئے آپ (عج) سے مدد و دستگیری کی التجا کرتے ہیں۔ امید ہے کہ ہم سب انقلاب اسلامی کے رہبر عظیم الشأن حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کی پیروی کرتے ہوئے پوری قوت اور شجاعت کے ساتھ ان سازشوں کے سامنے سینہ سپر ہوں اور اسلام اور قرآن کے دفاع میں سستی اور کاہلی کو اپنے پاس آنے کی ہرگز اجازت نہ دیں اور جان لیں کہ خداوند متعال ہمارے ساتھ ہے اور دنیاوی اور اخروی عذاب ان کافروں اور جرائم پیشہ قوتوں کا انتظار کرے گا۔
" قُل للَّذينَ كفَرُوا سَتُغلَبُونَ وتُحشَرُونَ اِلى جَهَنَّمَ وَبئسَ المِهَاد"
(آل عمران ـ آیت 12)
(اے میرے حبیب) کفر برتنے والوں سے کہدو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی12/ ستمبر 201021 شہریور 1389 ہجری شمسی 3 شوال المکرم 1431 ہجری قمری